• نومبر 25, 2020

بریگزٹ مکمل: برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو گیا

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ ایک نیا سحر ہے اور یہ موقع ہماری دوبارہ حاصل کردہ خودمختاری کو عوام کی خواہشات کے مطابق استعمال کرنے کا ہے۔ برطانوی وقت کے مطابق جمعے کی شب گیارہ بجے بریگزٹ مکمل ہو گیا ہے اور برطانیہ یورپی یونین کا حصہ نہیں رہا ہے۔

بریگزٹ کی حمایت اور مخالفت کرنے والے مظاہرین ملک بھر میں مختلف تقریبات میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزیراعظم بورس جانسن ان رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کی مہم چلائی تھی۔

بریگزٹ کے مخالفین نے جمعے کی شام برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹن ڈاؤنگ سٹریٹ کے باہر احتجاجی مارچ بھی کی تھی۔

ادھر بریگزٹ کے حامیوں نے جشن منانے کے لیے پارلیمنٹ سکوئر میں ایک ریلی نکالی ہے اور اس سکوئر کو یونین جھنڈوں سے سجایا گیا ہے۔ ڈاؤنگ سٹریٹ پر ایک گھڑی نے بریگزٹ کے لمحے تک کاؤنٹ ڈاؤن بھی کیا۔

تاہم لندن کے معروف گھنٹا گھر بگ بن سے رات گیارہ بجے اھنٹی نہیں بجائی گئی کیونکہ گھنٹا گھر میں مرمت کا کام جاری ہے۔

برطانیہ 47 سال تک یورپی یونین کا حصہ رہا ہے۔ بریگزٹ کے مکمل ہوتے ہی اب برطانوی شہریوں کو کچھ تبدیلیوں کا سامنا ہے۔

بیشتر یورپی قوانین، بشمول شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت، اس سال 31 دسمبر تک نافذ رہیں گے۔ سال 2020 منتقلی کا سال ہے۔

برطانیہ کی کوشش ہے کہ اس دوران وہ یورپی یونین کے ساتھ ایک فری ٹریڈ اگریمنٹ (تجارتی معاہدے) طے کر لیں جیسا کہ یورپی یونین کا کینیڈا کے ساتھ ہے۔

آج برطانوی کانیہ کا اجلاس بھی شمال مشرقی برطانیہ کے شہر سندرلینڈ میں ہوا جو کہ بریگزٹ کے حوالے سے ریفرنڈم میں برطانیہ کی علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالنے والا پہلا شہر تھا۔

ادھر برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے باہر سے برطانوی جھنڈا ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ یورپی یونین کا جھنڈا رکھ دیا گیا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

خلا میں دو مصنوعی سیارے ٹکرانے سے بچ گئے

Read Next

اخروٹ کی پیدوار کا سب سے بڑا مرکز کرغستان کا جنگل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے