• مئی 25, 2022

برآمدات،زرمبادلہ کی آمدکی بہتری کیلئےبرآمدی ری فنانس اسکیم میں توسیع

اسٹیٹ بینک نے برآمدات اور زرمبادلہ کی آمد کو بہتر بنانے کیلئے برآمدی ری فنانس اسکیم میں توسیع کردی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے برآمدی ری فنانس اسکیم کے تحت برآمدی آمدنی کے حصول کی مدت کو 180 ایام تک توسیع دے کر برآمد کنندگان کی جاری سرمائے کی ضروریات کے لیے موافق  شرح کے ساتھ خصوصی رعایت بھی فراہم کردی ہے، بشرطیکہ برآمدکنندہ اس ڈسکاؤنٹنگ سہولت سے استفادہ کرے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق برآمدکنندگان کو مزید سہولت دینے اور برآمدی آمدنی کی بروقت آمد کی حوصلہ افزائی کے لیے برآمدی ملکیت، روایتی اور شریعت سے ہم آہنگ دونوں کا دائرہ کار بڑھادیا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو اسکیم ایکسپورٹ بلز اورواجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ کے تحت برآمدی آمدنی پر فنانسنگ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

مرکزی بینک کے مطابق ایکسپورٹ بلز/ واجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ لازمی طور پر ایک ایسا مالی لین دین ہے کہ جس میں برآمد کنندہ اپنی مستقبل کی برآمدی آمدنی سے دستبرداری اختیار کرکے برآمدی آمدنی کے حصول کی بقیہ مدت کے لیے فنانسنگ حاصل کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے برآمدکنندگان کو اپنی جاری سرمائے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور ان کی برآمدی آمدنی کے بروقت حصول میں بھی سہولت میسر آئے گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید برآں اس اسکیم کے تحت برآمد کنندگان اپنے ایکسپورٹ بلز/ واجب الوصول کی ڈسکاؤنٹنگ (بعداز شپمنٹ اور قبل از شپمنٹ دونوں) کے ذریعے بینکوں سے فنانسنگ بھی حاصل کرسکتے ہیں، اس کی شرح 2 فیصد سے 3 فیصد ہوگی جس کا انحصار ڈسکاؤنٹنگ کی مدت  پر ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پہلے تین ماہ کے دوران یہ اسکیم ایک فیصد اور 2 فیصد کی تعارفی شرح پر دستیاب ہوگی۔ بینک ڈسکاؤنٹ کی مدت کے لحاظ سے ڈسکاؤنٹ شدہ رقم کے برابر ری فنانسنگ حاصل کرسکیں گے، جس کی سطح ایک فیصد سے 2 فیصد تک ہوگی

Read Previous

محسن بیگ کوایف آئی اے ٹیم پرفائرنگ کااختیارنہیں تھا،شفقت محمود

Read Next

پی ایس ایل7:زخمی یونائیٹڈ آج زلمی کے مدمقابل ہونگے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے