• مئی 24, 2022

ایم کیو ایم وفد کی شہبازشریف سے ملاقات، ان ہاؤس تبدیلی پر بات چیت

لاہور:  سیاسی رابطے تیز ہو گئے، متحدہ وفد نے لیگی صدر شہبازشریف سے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال اور ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر سے ملاقات کے لئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا وفد ماڈل ٹاؤن پہنچا، شہبازشریف نے ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان پارٹی رہنما وسیم اختر کا آمد پر استقبال کیا۔ احسن اقبال، سعد رفیق، شاہ محمد شاہ، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب، ملک محمد خان نے پارٹی صدر کے ہمراہ ایم کیو ایم قائدین کا استقبال کیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ اقتصادی،معاشی اور سیاسی صورتحال پربات چیت ہوئی، سندھ کی صورتحال پرتفصیلی گفتگوہوئی، عمران خان کے کراچی کیلئے 1100 ارب کے پیکیج کا کیا بنا؟ عمران خان اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں۔ ایم کیوایم کے وفد کوگزارش کی آپ حکومت کے اتحادی ضرور لیکن پہلے پاکستانی ہیں، عمران نیازی کے ہاتھوں ملک کی تباہی ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غریب آدمی ایک وقت کی روٹی کوترس رہاہے، والدین اپنےبچوں کی فیس دینے سے قاصر ہیں، اس سے زیادہ کرپٹ حکومت کا تصور نہیں کیا گیا۔ کراچی کا امن نوازشریف کے دورمیں واپس آیا، یہ مسلم لیگ (ن) کی بہت بڑی اچیومنٹ تھی، قائد ن لیگ کی لیڈرشپ میں کراچی میں پانی کے منصوبوں کے لیے بے پناہ فنڈزدیئے گئے۔

تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے لیگی صدر کا کہنا تھا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو فیصلے کا اختیار دیا گیا ہے، مجھے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عامر خان اور ان کے ساتھیوں سے کہا کہ عدم اعتماد آئینی طریقہ ہے۔

تحریک عدم اعتماد پر ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہا کہ ہم معاملے کو رابطہ کمیٹی اور اپنی قیادت کے سامنے پیش کریں گے، اس کے بعد جو فیصلہ ہو اس سے ہم مطلع کریں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح ن لیگ وفاق میں مسائل کا شکار ہیں، ہمیں صوبے میں مسائل ہیں، ہم نے اس صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی ہے، ہم سندھ میں پیپلزپارٹی کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ مہنگائی کے طوفان پرایم کیو ایم بھی پریشان ہے، صورتحال ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔

عامر خان نے کہا کہ سندھ بلدیاتی بل کے خلاف ہم نے اے پی سی کی تھی، اے پی سی کی قرارداد میں سب جماعتوں نے اتفاق کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا بلدیاتی بل کے خلاف بھی فیصلہ آیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو لیکر تینوں صوبے بھی عدالت جاسکتے ہیں، تمام صوبوں میں بلدیاتی اداروں کو بااختیارہونا چاہیے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

غائب اہم دستاویزات ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر سے برآمد

Read Next

پاکستان، سعودی مشترکہ فوجی مشقیں شروع

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے