• ستمبر 27, 2022

اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی

اسلام آباد: اپوزیشن نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی۔ تحریک عدم اعتماد وزیراعظم کے خلاف جمع کرائی گئی۔ تحریک عدم اعتماد پر 86 ارکان کے دستخط ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد تیار کر لی گئی۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر دستخط کر دیئے۔ شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آنے والی ہے، قومی اسمبلی اجلاس کی ریکیوزیشن جمع کرائی جائے گی، تمام ممبران اسلام آباد میں رہیں، کسی بھی وقت قومی اسمبلی اجلاس ہوسکتا ہے۔

پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف حکومت مخالفت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد لا رہے ہیں، حکومت کو تاریخی شکست ہوگی۔

تحریک عدم اعتماد کامیاب اور 172 سے زائد ووٹ لیں گے: متحدہ اپوزیشن پر امید

متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی، 172 ارکان سے زیادہ ووٹ لیں گے۔

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ(ن) اور ہمارے ساتھ منسلک اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ہم نے مل کر مشاورت کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ہم تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو خفیہ رکھا تھا اور اس کی سب نے پاسداری کی، آج تمام جماعتوں نے ریکویزیشن اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ پونے چار سال بعد اس تحریک عدم اعتماد کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی، سماجی، معاشرتی حوالے سے کردیا ہے اس کی نظیر پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، قرضے لے کر ملک کے 22کروڑ عوام اور ہماری نسلوں کو گروی رکھ دیا گیا ہے اور ان کھربوں کے عوض بھی اس ملک میں ایک بھی نئی اینٹ لگی ہوئی نظر نہیں آتی۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہاکہ ان کو صرف ایک کام آتا ہے کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے منصوبوں پر لگائی گئی تختیاں اکھاڑ کر لگا رہے ہیں اور خارجہ محاذ پر ان کی بدترین ناکامی ہے کہ پاکستان کے وہ دوست جنہوں نے اچھے اور برے وقتوں میں پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا، انہوں نے ان کو ناراض کردیا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے چین کے حوالے سے سی پیک کو نشانہ بنایا گیا، حکومت میں آںے سے قبل عمران خان اور ان کے موجودہ وزرا نے کیڑے نکالے، کرپشن کی باتیں کیں، چین پر بے الزامات لگائے اور تنقید کی، چین جیسے دوست کو ناراض کہاں کی خارجہ پالیسی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارا بہترین دوست ہے جبکہ میلسی میں تقریر کے دوران انتہا کردی اور بیٹھے بٹھائے ہمارے یورپی یونین اور دوسرے ممالک کو ناراض کردیا، سب کو پتہ ہے کہ پاکستان یورپ اور شمالی امریکا میں اربوں ڈالر کی تجارت کرتا ہے اور آپ نے بیٹھے بٹھائے کارتوس چلا دیے، انہوں نے جو زبان استعمال کی وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کی خواہش پر کیا جو اس حکومت کے خلاف دست با دعا ہے لہٰذا اس کو غیرملکی سازش قرار دینا احمقانہ اور بات اور بے بنیاد الزام ہے۔

انہوں نے حکومتی بیانیے کے جواب میں سوال کیا کہ کیا یہ مہنگائی غیرملکی سازش سے ہوئی، کیا بیروزگاری، مہنگی گیس خریدنا، قرض لے لے کر ملک کا بیرا غرق کرنا، مہنگی ترین بجلی پیدا کرنا اور پوری اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ چن دینا بین الاقوامی اور خارجہ پالیسی ہے؟۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا اور یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کی خواہشات اور دعاؤں کا عکاس ہے، آج ہم نے تحریک عدم اعتماد اسپیکر کے دفتر میں جمع ہو چکی ہے۔

پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی: مولانا فضل الرحمان

اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں اس حکومت سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی، جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی تو ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں ہے، یہ کسی بیرونی ایجنڈے کا ایجنٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2018 انتخابات کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ مؤقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور ہم اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے بعد تحریک کا آغاز ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ریلیوں اور مارچ سے ان سلیکٹڈ حکمرانوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کیا ہے، ہم قوم کے سامنے شرمندہ نہیں ہیں، ہم نے جو کہا تھا وہ ایک ایک بات حقیقت بن کر عام آدمی کے سامنے موجود ہے اور ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ ملک انحطاط کی طرف گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ جب 17-2018 کا بجٹ پیش کیا جا رہا تھا جو تو شرح نمو ساڑھے پانچ فیصد تھی اور اگلے سال سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے چھ فیصد لگایا گیا تھا لیکن یہ حکومت ہماری سالانہ ترقی کا تخمینہ صفر سے بھی نیچے لے آئی، ملک کی معیشت کمزور ہو گئی اور معیشت کمزور ہونے کے بعد اب کوئی ملک آپ کو پیسہ دے کر ضائع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ آج اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے اور اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں، ان کی بساط لپٹ چکی ہے اور اب کوئی آئیڈیل باتیں ان کے لیے سودمند نہیں ہوسکتیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن ملک کے مفاد پر متحد ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت چین کے ساتھ رابطے میں رہی اور سی پیک کی طرف بڑھ رہی تھی، مسلم لیگ کی حکومت نے یہ نہیں کہا کہ پیپلز پارٹی نے غلط کیا بلکہ فروغ دیا اور ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھی اور چین جیسے ملک کے ذریعے دنیا سے تجارت کا شاہراہ دیا، ہم نے اتنے بڑے دوست کو مایوس کردیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں، جکسی ادارے سے بھی کوئی دشمنی نہیں لیکن ان کے فیصلوں اور رویوں سے اختلاف کا جب بھی موقع آیا ہے تو اس کو چھپایا بھی نہیں ہے، برملا اور بصداحترام اختلاف رائے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو چکی ہے، ہم کامیابی پر یقین رکھتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد ان نااہلوں اور نالائقوں کے خلاف کامیاب ہو گی اور قوم عنقریب نجات کی خوشخبری سنے گی۔

172سے بھی زیادہ ووٹ لیں گے: زرداری

دوران پریس کانفرنس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم اپوزیشن کے دوستوں نے سوچا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں کیونکہ یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے اور یہ اتنا خراب ہو جائے گا کہ اس کو کوئی بنا بھی نہیں سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم سب مل کر بیٹھے، مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی اکیلی جماعت پاکستان کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی، ہمیں مل کر ساتھ کام کرنا پڑے گا اور ان دوستوں کو بھی دعوت دیں گے جو ہم سے دور ہیں، ہم سب مل کر پاکستان کو اس مشکل سے آزادی دلائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ ہم 172ارکان کو ایوان میں لائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے 172 سے زائد ووٹ لیں گے، صرف ہم نہیں بلکہ کئی دوست بیزار ہیں، اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی اپنی پارٹی اور ان کے اپنے دوست بیزار ہیں، ان کو اپنے حلقوں میں جانا ہے تو وہ کیا جواب دیں گے۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جس طرح 1989 میں غلام اسحٰق خان اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا، وہ الگ بات کہ غلام اسحٰق خان نے اسمبلی تحلیل کردی تھی تاہم اب اس صدر کے پاس میں نے وہ طاقت ہی نہیں چھوڑی ہے کہ وہ کوئی اسمبلی تحلیل کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافی چاہ رہے ہیں کہ میں انہیں ارکان کی تعداد بتادوں، پوچھتا ہوں کہیں توآپ کو سب کے نام ہی نہ بتادوں؟ اس پر پورا ہال قہقہے سے گونج اٹھا۔

تحریک عدم اعتماد: وزیراعظم کو عہدے سے فارغ کرنے کیلئے کتنے ووٹ درکار؟

متحدہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ریکوزیشن قومی اسمبلی میں جمع کروا دی ہے، اس قرار داد کے بعد 14 دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ہو گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے 172 ارکان کی حمایت ضروری ہے، اپوزیشن کے پاس 162 ارکان موجود ہیں اور اسے مزید 10 ارکان کی حمایت درکار ہے۔

متحدہ اپوزیشن کی طرف سے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کرادی گئی ہے جس کے مطابق ریکوزیشن جمع کرانے کے بعد 14 دن کے اندر قومی اسمبلی اجلاس بلانا لازمی ہوگا۔

لیگل برانچ قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ریکوزیشن کے مطابق سپیکر اب کسی بھی وقت اجلاس بلا سکتے ہیں، اجلاس بلانے کی حد 14 روز یعنی 22 مارچ بنتی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن کی وفات پر پہلے دن کا اجلاس بغیر کارروائی ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کارروائی 7 دن کے اندر مکمل کرنا لازمی ہو گی، آئین کے تحت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو گی۔

وزیر اعظم عمران خان كے خلاف تحریک عدم اعتماد كی كامیابی یا ناكامی كے امكانات جاننے كے لیے قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں كے اراكین یا حكومتی اور حزب اختلاف كی نشستوں كی تعداد معلوم ہونا بہت ضروری ہے۔

2018 كے انتخابات كے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی میں پاكستان تحریک انصاف عددی اعتبار سے سب سے بڑی قوت ہے، جس نے دوسری جماعتوں كی حمایت سے وفاقی حكومت بنا ركھی ہے۔

پاكستان میں وفاقی حكومت كو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف كے 155 اراكین كے علاوہ مسلم لیگ ق 5، متحدہ قومی موومنٹ پاكستان 7، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 3، عوامی مسلم لیگ 1، بلوچستان عوامی پارٹی 5، جمہوری وطن پارٹی 1 كی حمایت حاصل ہے۔

حكومتی اتحاد كے برعكس اپوزیشن كی نشستوں پر براجمان اراكین اسمبلی میں مسلم لیگ ن 84، پیپلز پارٹی 56، متحدہ مجلس عمل پاكستان 15، عوامی نیشنل پارٹی 1 ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4 امیدوار ہیں۔

قومی اسمبلی میں چار آزاد امیدوار ہیں۔ آزاد امیدواروں میں این اے 48 شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، این 50 سے علی وزیر، این اے 218 میر پور خاص سے علی نواز شاہ، این اے 272 گوادر سے آزاد امیدوار میر محمد اسلم بھوتانی شامل ہیں۔

دو آزاد امیدوار اپوزیشن کے حمایت یافتہ ہیں جبکہ دو آزاد امیدواروں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کے حمایت یافتہ ہیں۔

جماعت اسلامی کا ایک رکن قومی اسمبلی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینا ہے یا نہیں۔

یوں 341 اراكین پر مشتمل قومی اسمبلی میں حكومتی جماعتوں سے تعلق ركھنے والے ایم این ایز كی تعداد 179 ہے، جبكہ 162 اراكین قومی اسمبلی اپوزیشن بینچز كا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ ہنگو سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی خیال زمان اورکزئی گزشتہ ماہ انتقال کر گئے تھے جس پر الیکشن آئندہ ماہ 10 اپریل کو ہو گا۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وہ اپنے عہدے سے فارغ تصور ہوں گے جس کے بعد سپیکر فوری طور پر صدر کو تحریری طور پر تحریک عدم اعتماد کے نتیجے سے آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

حکومتی ارکان ٹوٹنے پر مسلم لیگ ق کا اپوزیشن کیساتھ جانے کا اشارہ

Read Next

روس کے یوکرین پر حملے، مزید ٹینک اور جنگی سامان بھجوا دیا، شہریوں کا انخلا جاری

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔