• جنوری 19, 2021

انسداد دہشتگردی فورسز کی فائرنگ سےایک طالبعلم جاں بحق

اسلام آباد: اسلام آباد پولیس ماورائے عدالت اقدامات سے باز نہ آئی۔ انسداد دہشتگردی سکواڈ نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک اور نوجوان طالب علم کو قتل کر دیا۔ انٹرمیڈیٹ کا طالب اسامہ ندیم گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاڑی کو پیچھے سے نہیں بلکہ سامنے اور داہیں بائیں سے گولیاں برسائی گئیں، گاڑی پر 17 گولیوں کے نشان پائے جن میں تین ڈرائیور اسامہ ستی کو لگیں۔ ای ٹی سی اہلکاروں نے موقف اختیا ر کیا تھا کہ نوجوان کو گاڑی نہ روکنے پر پیچھے سے فائر کیے گئے تاہم ان کا موقف غلط ثابت ہوا۔واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو روک کر سامنے اور دائیں بائیں سے متعدد فائر کیے گئے، جھوٹ کا پول کھلنے کے بعد مدثر مختار، شکیل احمد، سعید احمد، محمد مصطفے اور افتخار احمد نامی پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔مقتول نوجوان اسامہ ندیم اسلام آباد کے علاقے جی 13 میں اپنے والد کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا طالب ہونے کیساتھ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا۔ آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لئے ڈی آئی جی کی سربراہی میں انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ وزیر دا خلہ شیخ رشید نے فوری قتل کے مقدمے کے اندراج کا حکم دے دیا ہے۔مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اسامہ ندیم رات، دو بجے اپنے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تو راستے میں پولیس اہلکاروں کیساتھ تلخ کلامی ہوئی، بیٹے نے فون پر انہیں واقعے سے آگاہ بھی کیا، اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کے بیٹے کا پیچھا کیا اور گاڑی روک کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

Islamabad Police killed an innocent Boy

Read Next

ریاستی ادارے سیاسی دباؤ کے بغیر آزادانہ کام کریں تو قوم کا فائدہ ہوتا ہے: وزیراعظم

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے