• ستمبر 20, 2021

اسد کھوکھر کو صوبائی وزیر بنانے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن جاری

لاہور:  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی اسد کھوکھر کو دوبارہ صوبائی وزیر بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ اسد کھوکھر سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے خالی کردہ پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 168 پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

پنجاب کابینہ میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی آئی ایم پی اے اسد کھوکھر کو پنجاب میں وزیر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 19 جولائی 2020ء کو گورنر پنجاب چودھری نے صوبائی وزیر جنگلی حیات ملک اسد علی کھوکھر کا استعفیٰ منظور کرلیا۔

حکومت پنجاب کے کابینہ ونگ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق گورنر نے آرٹیکل 132(3) اور آرٹیکل 105 کے تحت ملک اسد علی کھوکھر کا صوبائی وزیر جنگلی حیات کے عہدے سے استعفیٰ منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ ملک اسد کھوکھر کے عہدے سے مستعفی ہونے کی وجوہات اب تک سامنے نہیں آئی تھیں۔

دوسری طرف  وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی عون چودھری مستعفی ہوگئے۔ عون چودھری پر اراکین اسمبلی کو ترین گروپ میں لانے کیلئے لابنگ کا الزام ہے۔

عون چودھری ترین گروپ کی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ عون چودھری ترین گروپ کے سرگرم رہنما ہیں۔ عون چودھری نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں استعفیٰ پیش کیا۔ عون چودھری سے استعفیٰ لینے کا فیصلہ گزشتہ روز وزیراعظم کے اجلاس میں ہوا، وزیراعظم نے گزشتہ روز عثمان بزدار کو استعفیٰ لینے کی ہدایت کی تھی۔

عون چودھری نے کہا ہے کہ استعفیٰ دیتا ہوں لیکن ترین گروپ کو نہیں چھوڑ سکتا، مجھے سیاسی خدمات کا یہ صلہ دیا گیا، ترین گروپ سے علیحدگی سے انکار پر مستعفی ہونے کا کہا گیا، وزیراعلیٰ آفس بلا کر ترین گروپ سے علیحدہ ہونے کا کہا گیا۔

عون چودھری کے استعفے پر ترین گروپ کے راجہ ریاض نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے بھی استعفے طلب کیے گئے تو تیار ہیں، عون چودھری کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، استعفے دے دیں گے لیکن جہانگیر ترین کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، آئندہ چند روز میں مشترکہ فیصلہ کریں گے، دباؤ ڈال کر استعفے لینے سے پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

پشتونخواہ میپ کے عثمان کاکڑ کے انتقال سے متعلق جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ جاری

Read Next

افغانستان کے محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر کابل میں قتل

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے