• نومبر 25, 2020

اخروٹ کی پیدوار کا سب سے بڑا مرکز کرغستان کا جنگل

ازبکستان کی سرحد سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر مغربی کرغزستان کی ایک وادی میں تیرہ ہزار نفوس پر مشتمل ارسلان بوب نامی قصبہ چاروں طرف سے بلندوبالا باباشاتا کی پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔

موسمِ بہار اور گرمیوں میں تیز بہتی دو آبشاریں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں لیکن یہاں ہر سال جو خزاں میں ہوتا ہے وہ قابل ذکر ہے۔

ہر سال ستمبر میں ارسلان بوب سے بہت بڑی ہجرت ہوتی ہے اور تقریباً تین ہزار خاندان بلند پہاڑوں میں 385 مربع میل پر پھیلی ہوئی ان ڈھلوانوں کی جانب نکل پڑتے ہیں جن کا رخ جنوب کی جانب ہے۔

گاؤں سے ایک گھنٹے کے پیدل فاصلے پر واقع یہ جنگل دنیا میں اخروٹ کے درختوں کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

ہر سال ارسلان بوب کے ان باغوں سے ایک ہزار سے 15سو ٹن تک اخروٹ پیدا ہوتا ہے۔

اپنی گہرے رنگ کی گِری کے لیے مشہور ان اخروٹوں کی پیداوار کیڑے مار ادویات سے پاک، قدرتی ماحول میں ہوتی ہے۔ یہاں کے اخروٹ دنیا کے بہترین اخروٹ سمجھے جاتے ہیں اور ہر سال یورپ اور ایشیا بھر کو برآمد کیے جاتے ہیں۔

یہ چھوٹا سا قصبہ اس قدر اخروٹ کی پیداوار سے مالا مال کیسے ہوا اس بارے میں کئی داستانیں مشہور ہیں۔

کچھ مقامی لوگوں کے خیال میں یہ بات پیغمبرِ اسلام کے دور سے شروع ہوئی جب انھوں نے ایک تجربہ کار مالی کو بیج دیا اور یہ نصیحت کی کہ وہ اسے کسی مناسب جگہ پر اس طرح کاشت کر ے کہ جنگل اُگ آئے۔

وہ مالی، اس نصیحت کی روشنی میں، دور دراز سے سفر کرتے ہوئے ارسلان بوب پہنچا۔

مالی نے برفانی پہاڑیوں کے دامن واقع ایک ایسی جگہ تلاش کی جہاں کا موسم بہترین اور جہاں صاف ستھری بہتی ندیاں اور زرخیز زمین موجود تھی۔

اس شخص کو یقین ہو گیا کہ یہ بہترین مقام ہے اور پھر اس نے پیغمبرِ اسلام کا دیا ہوا بیج بویا اور کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی یہاں اخروٹ کے جنگلات پھل پھول رہے ہیں۔

ایک اور مقامی کہاوت کے مطابق دو ہزار سال سے بھی زائد عرصہ قبل سکندر اعظم کے دور میں اخروٹ کے درخت ارسلان بوب سے لا کر یورپی ممالک میں بھی کاشت کیے گئے تھے۔

اس کہاوت کے مطابق سکندر اعظم کی فوج مشرقی ایشیا کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی کہ اس نے اس وادی میں قیام کا ارادہ ظاہر کیا۔

جنگ کے مارے ہوئے زخمی سپاہیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکا۔ سکندر اعظم کی فوج ان سپاہیوں کو ارسلان بوب سے کئی کلومیٹر دور ایک گاؤں میں چھوڑ کر نکل گئی جسے اب ’یاردار‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، ازبک میں جس کے معنی ’زخمی‘ کے ہیں۔

کچھ ماہ بعد ہی سکندر اعظم یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ وہی زخمی فوجی تروتازہ اور صحت مند ہو کر دوبارہ اس کی فوج کا حصہ بن گئے۔

ان فوجیوں نے بتایا کہ جب انھوں نے خوراک کی تلاش میں جنگل کا رخ کیا تو انھوں نے بڑی تعداد میں وہاں اخروٹ، سیب اور دیگر پھل تلاش کر لیے۔ جب انھوں نے یہ پھل خوب کھا لیے تو پھر ان کی حالت بہتر ہو گئی اور وہ وہاں سے اپنے سپاہ سالار کے قافلے کا حصہ بن گئے۔

اس سے سکندر اعظم اتنا خوش ہوا کہ جب وہ یورپ لوٹا تو اپنے ساتھ یہاں کے اخروٹ کے بیج بھی ساتھ لے گیا اور ان بیجوں کو یونان میں بونے کا حکم دیا۔

درختوں سے اخروٹ توڑنے کا آغاز اکتوبر سے ہو جاتا ہے۔ ستمبر کے وسط میں کئی خاندان اپنے مویشیوں سمیت یہاں سے اخروٹوں کے جنگلات کی طرف اپنا سفر شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اس مقام پر پہنچ کر یہاں درختوں سے 20 کلو گرام تک کے تھیلوں میں اخروٹ جمع کرتے ہیں۔

یہ خاندان یہاں پہنچ کر مقامی محکمۂ جنگلات، جو ان باغات کا مالک ہے، سے کئی ایکڑ پر پھیلے اخروٹ کے باغ کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور پھر اگلے دو ماہ کے لیے یہ لوگ یہیں رک جاتے ہیں اور زمین پر کام کرتے ہیں۔

درختوں سے اخروٹ اتارنے سے پہلے مقامی لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک مرغی یا کوئی چھوٹا مویشی ذبح کرتے ہیں تاکہ یہ سال بھی خوب پیداوار والا ہو۔ ان باغات میں کئی درخت کئی سو سال پرانے ہیں۔ اخروٹ کے ان درختوں کی زندگی ہزار سال تک کی ہوتی ہے اور اس کا قطر دو میٹر تک ہوتا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

بریگزٹ مکمل: برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو گیا

Read Next

وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم کو ایک اور خط: کلیم امام کو عہدے سے ہٹایا جائے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے