• نومبر 30, 2020

آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراؤ کیس نے کیا؟آرمی چیف تحقیقات کرائیں،بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کے گھر کا گھیراؤ کرنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے محکمانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ ہوا، میں اس پر شرمندہ ہوں اور منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قائد کے مزار پر ایک نعرہ لگانے پر تماشا کھڑا ہوگیا، عمران خان خود بھی مزار قائد جاتے تھے تو ایسے ہی نعرے لگائے جاتے تھے لیکن کسی نے ایف آئی آر کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ صبح سویرے صوبے کے آئی جی کو ہراساں کرکے گرفتار کرنا ان کی تذلیل ہے، وزیراعلیٰ نے تحقیقات کا اعلان کیا، پولیس کے افسران کی عزت کا سوال بن گیا ہے اور وہ استعفے اور چھٹیوں پر جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کون لوگ تھے جنہوں نے رات 2 بجے کے بعد  آئی جی مشتاق مہر کے گھر کا گھیراؤ کیا، کون دو لوگ تھے جو آئی جی کو نامعلوم مقام پر لیکر گئے؟ پی پی چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید واقعے کی تحقیقات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب اپنی عزت کیلئے کام کرتے ہیں، صوبہ اپنی تحقیقات کرے گا لیکن ادارے بھی تحقیقات کریں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ سب چاہتے ہیں قانون کے دائرے میں کام کریں، جیسے بھی ہوا، اس واقعے کو برداشت نہیں کرسکتے، یہ ناقابل برداشت ہے، ان کا کام صوبے کا امن قائم رکھنا ہے۔ پی پی چیئرمین  نے مزید کہا کہ باقی صوبوں میں پولیس فورس پی ٹی آئی کی پولیٹیکل فورس کے طورپرکام کرتی ہے، ہم آئی جی سندھ تبدیل کرناچاہیں تو مشکل ہوتی ہے، ہمیں بدنام کرنے کی سازش تھی تو یہ انہیں بہت بُرا مشورہ دیا گیا، سیاسی ایشو ہوتے ہیں لیکن ریڈلائن کراس نہیں ہونی چاہیے۔ پولیس مورال پر ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران اس لیے چھٹی پر جارہے ہیں کہ ان کی بے عزتی ہوئی، آپ کی عزت کاسوال ہے تو میری بھی عزت کا سوال ہے، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا، غیر سیاسی فیصلوں کی وجہ سے سندھ پولیس کا مورال گرا ہے لیکن ہمیں سندھ پولیس کا مورال بلند کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس تعداد میں اس شہر اور صوبے کے عوام جلسے میں شریک تھے یہ عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ریفرنڈم تھا۔ گورنر راج کے حوالے سے بلاول نے کہا کہ گورنر راج غیر قانونی ہے، ازخود گورنر راج نہیں لگا سکتے۔

0 Reviews

Write a Review

Read Previous

سونے کی نئی قیمت سامنے آگئی، ڈالر 5 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

Read Next

بلاول سندھ پولیس سے اظہاریکجہتی کیلئے آئی جی ہاؤس پہنچ گئے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے